فوبیا (Phobia)



ایک ایسا شخص جسے فوبیا ہو  اس میں اوپر بیان کی گئی گھبراہٹ  کی شدید علاما ت پائی جاتی ہیں۔ لیکن یہ اس وقت ظاہر ہوتی ہیں جب وہ کسی ایسی خاص صورتحال میں ہوں جس میں انہیں شدید گھبراہٹ ہوتی ہو۔ دیگر اوقات میں انہیں گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ اگر آپ کو کتوں کا خوف ہو تو آپ اس وقت بالکل ٹھیک ہونگے جب کتے آپ کے آس پاس نہ ہوں۔ اگر آپ کو بلندی کا خوف ہو تو زمین پر آپ ٹھیک رہیں گے۔ اگر آپ ہجوم کا سامنا نہ کرسکتے ہوں تو اکیلے میں آپ آرام سے رہیں گے۔

Coaching Life Soft Skills

فوبیا میں مبتلا شخص ایسی ہر صورتحال سے بچنے کی کوشش کرتا ہے  جو اسے گھبراہٹ میں مبتلا کرسکتی ہے لیکن اصل میں اس طرح وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ فوبیا شدید ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے  کہ متاثرہ شخص کی زندگی ان احتیاطی تدابیر کی محتاج ہوجائے  جو اسے ان صورتحال سے بچنے کے لیے اختیار کرنی پڑتی  ہیں۔ اس بیماری سے متاثرہ افراد کو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہے، انھیں اپنے خوف بیوقوفانہ لگتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ انھیں کنٹرول نہیں کرسکتے۔  وہ فوبیا جو کسی پریشان کن واقعے یا حادثے کے نتیجے میں شروع ہوا ہو اس کے ختم ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

کیا یہ عام ہیں؟

ہر دس میں سے ایک شخص کو زندگی میں کبھی نہ کبھی تکلیف دہ گھبراہٹ یا فوبیا کا سامنا ہوتا ہے۔ تاہم زیادہ تر افراد اس کا علاج نہیں کرواتے۔



وجوہات

 ہم میں سے کچھ لوگوں کی طبیعت اس طرح کی ہوتی ہے کہ وہ ہر بات پہ پریشان رہتے ہیں۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کی طبیعت جینز کے ذریعے وراثت میں بھی مل سکتی ہے۔ تاہم وہ لوگ بھی جو قدرتی طور پر ہر وقت پریشان نہ رہتے ہوں اگر ان پر بھی مستقل دباؤ پڑتا رہے تو وہ بھی گھبراہٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

کبھی کبھار  گھبراہٹ کی وجہ بہت واضح ہوتی ہے اور جب مسئلہ حل ہوجائے تو گھبراہٹ بھی ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن  کچھ واقعات اور حالات اتنے  تکلیف دہ اور خوفناک ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ واقعات کے ختم ہونے کے طویل عرصے بعد تک جاری رہتی ہے۔  یہ عام طور پر اس طرح کے واقعتا ہوتے ہیں جن میں انسان کی جان کو خطرہ ہو مثلاً کار  یا ٹرین کے حادثات اور آگ وغیرہ۔ ان واقعات میں شامل افراد مہیںوں یا سالوں تک گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار رہ سکتے ہیں چاہے خودانھیں کوئی جسمانی چوٹ نہ لگی ہو۔ یہ علامات پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (Post Traumatic Stress Disorder)میں پائی جاتی ہیں۔

کبھی کبھی نشہ آور اشیا مثلاً ایمفیٹا مائنز(amphetamines)، ایل ایس ڈی یا ایکسٹیسی (ecstasy)کے استعمال کی وجہ سے بھی گھبراہٹ ہوسکتی ہے۔ حتیٰ کہ کافی میں موجود کیفین بھی ہم میں سے کچھ افراد کو تکلیف دہ حد تک گھبراہٹ کا شکار کرنے کے لیے کافی ہے۔

تاہم دوسری طرف یہ واضح نہٰیں ہے کہ کوئی مخصوص شخص کیوں گھبراہٹ میں مبتلا ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ یہ ان کی شخصیت ، ان پر  گذرنے والے واقعات اور زندگی کی تبدیلیوں مثلاً بچے کی پیدائش وغیرہ کی وجوہات کے باعث ہوتے ہیں۔

#Psychology-Science-Of-People3U

مدد  طلب کرنا

اگر ہمیں بہت زیادہ دباؤ میں رہنا پڑے تو ہم بیشتر وقت پریشان اور خوفزدہ رہیں گے۔ ہم عام طور پر ان کیفیات کا مقابلہ کرلیتے ہیں کیونکہ ہمیں ان کی وجہ پتہ ہوتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صورتحال کب ختم ہوگی ۔مثلاً ڈرائیونگ ٹیسٹ سے قبل ہم میں سے بیشتر  لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں لیکن ہم اس پر قابو پالیتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ٹیسٹ ختم ہونے کے ساتھ ہی گھبراہٹ بھی ختم ہوجائے گی۔

 لیکن بعض لوگ بہت زیادہ وقت کے لیے ان گھبراہٹ اور خوف کے احساسات کا شکار رہتے ہیں، انہیں نہیں پتہ ہوتا کہ انہیں کس وجہ سے گھبراہٹ ہو رہی ہے اور یہ گھبراہٹ کب اور کیسے ختم ہوگی ۔ اس پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے اور اس سلسلے میں عام طور پر کسی کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر اوقات لوگ اس سلسلے میں مدد نہیں حاصل کرنا چاہتے کیونکہ انھیں یہ لگتا ہے کہ لوگ انھیں پاگل سمجھیں گے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا لوگ شاذ و نادر ہی کبھی شدید قسم کی دماغی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جتنی جلدی مدد حاصل کی جائے اتنا ہی بہتر ہوگا بجائے اس کے کہ خاموشی سے تکلیف برداشت کی جائے۔

گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا لوگ ان احساسات کے بارے میں کسی سے حتیٰ کہ گھر والوں یا قریبی دوستوں سے بھی بات نہیں کرتے ۔ اس کے باوجود یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں ۔اس مسئلے میں مبتلا  فرد پیلاہٹ اور تناؤ کا شکارنظر آئے گا اور معمول کی آوازوں مثلاً دروازے کی گھنٹی یا کار کے ہارن سے بھی بہت زیادہ چونک جائے گا۔ وہ چڑچڑے پن کا شکار ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے قریبی افراد سے بحث مباحثہ ہوسکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب ان کو یہ اندازہ نہ ہو کہ مریض کچھ مخصوص کام کیوں نہیں کرپارہا۔ گوکہ دوست اور گھر والے گھبراہٹ کی وجہ سے ہونے والی تکلیف کو سمجھتے ہیں تاہم انھیں یہ تمام پریشانیاں بلا وجہ لگتی ہیں۔

Coaching Life Soft Skills

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

سائیکالوجی - نفسیات لوگوں کے بارے میں سائنس